Fatawa ~ AIA Academy (Boys)




Fatawa Details



قضاء روزوں کا شمار؟



سوال: ذی الحجہ اور محرم میں جو روزے رکھتے ہیں ان کو اپنے قضاء روزوں میں شمار کرسکتے ہیں یا نہیں؟
بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللّٰہ التوفیق: نفل روزہ الگ ہے اور فرض کی قضا کا روزہ الگ اور مستقل حیثیت رکھتا ہے، روزہ میں نفل کی نیت کرنے سے وہ نفلی روزہ ہوگا اور قضا کی نیت کرنے سے وہ قضا کا روزہ ہوگا، ایک روزہ میں نفل اورقضا دونوں کی نیت نہیں کرسکتے ہیں؛ لہذا شوال کے چھ روزوں یا ذی الحجہ، عاشورہ کے روزوں کے ساتھ،قضا روزوں کی ادائیگی کی نیت کرناصحیح نہیں ہے۔اس لیے اگر شوال کے مہینے میں شوال کے چھ روزوں کی نیت کی ہیتو وہ نفلی روزے ہوں گے قضا کے نہیں ہوں گے، اور اگر ان دنوں میں قضا کی نیت کی ہے تو وہ قضا کے روزے ہوں گے اور اس سے نفلی کا ثواب نہیں ملے گا۔
ولو نوی قضاء رمضان والتطوع کان عن القضاء فی قول أبی یوسف، خلافاً لمحمد فإن عندہ یصیر شارعاً فی التطوع، بخلاف الصلاۃ فإنہ إذا نوی التطوع والفرض لایصیر شارعاً فی الصلاۃ أصلاً عندہ، ولو نوی قضاء رمضان وکفارۃ الظہار کان عن القضاء استحساناً، وفی القیاس یکون تطوعاً، وہو قول محمد، کذا فی الفتاوی الظہیریۃ''. (البحر الرائق شرح کنز الدقائق ومنحۃ الخالق وتکملۃ الطوری 2/ 299)

 



Leave a Comment